الفضل ما شهدت به الأعداء
قال معاوية قائد حرب صفين ضد الإمام علي أمير المؤمنين عليه السلام
لضرار بن ضمرة الضبابي: يا ضرار صف لي عليا !.
قال: اعفني يا أمير ، قال: لتصفنه !!.
قال: اما إذ لا بد من وصفه ، كان والله بعيد المدى ، شديد القوى ، يقول فصلا ، ويحكم عدلا ، يتفجر العلم من جوانبه ، وتنطق الحكمة من نواحيه ، يستوحش من الدنيا وزهرتها ، ويأنس بالليل ووحشته ، كان غزير العبرة ، طويل الفكرة ، يعجبه من اللباس ما خشن ، ومن الطعام ما جشب ، كان فينا كأحدنا ، يجيبنا إذا سألناه ، وينبئنا إذا استفتيناه ، ويأتينا إذا دعوناه ، ونحن والله مع تقريبه إيانا وقربه منا لا نكاد نكلمه هيبة له ، يعظم أهل الدين ، ويقرب المساكين ، لا يُطمع القوي في باطله ، ولا يُيئس الضعيف من عدله .
وأشهد لقد رأيته في بعض مواقفه ، وقد أرخى الليل سدوله ، وغارت نجومه ، قابضا على لحيته ، يتململ تململ السليم ، ويبكي بكاء الحزين ، ويقول : يا دنيا غري غيري، ابي تعرضت ؟ أم إلي تشوفت؟ هيهات هيهات ، قد باينتك ثلاثا لا رجعة فيها ، فعمرك قصير ، وعيشك حقير ، وخطرك كبير ، آه آه من قلة الزاد ، وبعد السفر ، ووحشة الطريق .
فبكى معاوية وقال : رحم الله أبا الحسن كان والله كذلك ، فكيف حزنك عليه يا ضرار؟
قال : حزن من ذبح ولدها في حجرها .
السلام عليك يا أصبر الخلق بعد ييد الخلق يوم ولدت ويوم استشهدت ويوم تبعث حيا)
(عظم الله أجورنا وأجوركم بذكرى شهادته ٓع ٓ)
المجلس الإسلامي الجعفري الأعلى في سورية برعاية العلّامة الهاشمي السيد محمد علي المسكي
*حضرت علیؑ کی وصیت*:
ضربت کے بعد حسنینؑ شریفین اور ان کے چاہنےوالوں کے نام حضرت علی علیہ السلامؑ کی وصی
میں تم دونوں کو خدا سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔
اور دنیا کی طرف مائل نہ ہونا خواہ وہ تمہاری طرف مائل ہو۔
اور دنیا کی جو چیز تم سے روک لی جائے اس پر افسوس نہ کرنا۔
اور جو بھی کہنا حق کے لئے کہنا
اور جو کچھ کرنا ثواب کے لئے کرنا۔
اور ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔
میں تم دونوں کو، اپنی دوسری اولادوں کو، اپنے کنبے کے افرادکواور جن لوگوں تک میرایہ نوشتہ پہنچے، اُن سب کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے امور کو منظم رکھنا۔
اورباہمی تعلقات کو سلجھائے رکھنا، کیونکہ میں نے تمہارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ:آپس کی کشیدگیوں کومٹانا عام نماز روزے سے افضل ہے
دیکھو! یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہناان پر فاقے کی نوبت نہ آئے اور تمہارے ہوتے ہوئے وہ برباد نہ ہوں۔
دیکھو! اپنے ہمسایوں کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں تمہارے نبیؐ نے برابر ہدایت کی ہےآپ ؐان کے بارے میں اس قدر تاکید فرماتے تھے کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا تھا کہ آپ ؐاُنھیں بھی ورثہ دلائیں گے
اور قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔
نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے
اور اپنے رب کے گھر کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہنا، جیتے جی اسے خالی نہ چھوڑنا۔
کیونکہ اگریہ خالی چھوڑ دیا گیا توپھر (عذاب سے) مہلت نہ پاؤ گے۔
اپنے اموال، جان اور زبان سے راہِ خدا میں جہاد کے سلسلے میں خدا سے ڈرتے رہنا۔
تم پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھناا ور ایک دوسرے کی اعانت کرناخبردار ایک دوسرے سے قطع تعلق سے پرہیز کرنا۔
دیکھو!امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو ترک نہ کرنا، ورنہ بد کردار تم پر مسلّط ہوجائیں گے اور پھر اگر تم دعا مانگوگے تو وہ قبول نہ ہوگی۔
اے عبدالمطلب کے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ تم، امیرالمو منین قتل ہوگئے، امیر المومنین قتل ہوگئے کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو۔
دیکھو! میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیاجائے۔
دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا، خواہ وہ کاٹنے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو۔
آئیے:عہد کریں کہ امام کہ وصیت پر عمل کریں گے.......انشاءاللہ...




0 Comments :
Post a Comment